Friday, September 3, 2010

عامر سے شمالی لندن کے تھانے میں پوچھ گچھ

پاکستانی فاسٹ بالر محمد عامر سے شمالی لندن کے تھانے میں پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ عامر پر الزام ہے کہ انہوں نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں جان بوجھ کر نو بال کی تھی۔ معطل کپتان سلمان بٹ اور محد آصف سے پولیس پوچھ گچھ کرے گی۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر کرکٹ کونسل کے آرٹیکل دو کی کئی دفعات کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔
دریں اثناء آئی سی سی کے چیف ایگزیکیٹیو ہارون لوگارٹ نے جمعہ کو ایک اخباری کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ کرکٹ کے کھیل کے وقار کو قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے معاملے پر فوجداری قانون کے تحت تفتیش ہو رہی ہے۔

آئی سی سی کی انسداد بد عنوانی کی کمیٹی کے سربراہ نےسر رونی فلینیگن نے کہا کہ تینوں کے کھلاڑیوں کے خلاف ایسے الزامات ہیں جن کا انہیں جواب دینا پڑے گا۔
یہ الزمات آئی سی سی کے ’اینٹی کرپشن کوڈ فار پلیئرز اینڈ پلیئر سپورٹ پرسنل‘ کے تحت پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز میں ہونے والے چوتھے ٹیسٹ میچ میں مبینہ طور پر ضابطے کی خلاف ورزی کے حوالے سے لگائے گئے تھے۔



برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے آئی سی سی کو اس فیصلے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے خلاف الزامات پر تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
ہائی کمشنر نے کہا کہ پولیس انکوائری کو اہمیت دی جانی چاہیے تھی اور جب ایک ایسی انکوائری جاری ہے کھلاڑیوں کے خلاف اقدام غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی نے بغیر کسی تفتیش کے فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کا اقدام قبل از وقت اور غیر ضروری ہے جس سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی طرف سے رضاکارانہ طور پر کرکٹ نہ کھیلنے کے اعلان کے بعد کھلاڑیوں پر پابندی کی ضرورت نہیں۔
معطل ہونے والے کھلاڑیوں میں پاکستان کے کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد عامر اور محمد آصف شامل تھے۔ تینوں کو باقاعدہ طور پر ان پر لگائے گئے کرپشن کے مبینہ الزمات کے بارے میں آگاہ کر کے انہیں اس وقت تک عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے جب تک الزمات پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔

اس فیصلے کا مطلب ہے کہ یہ تینوں کھلاڑی کرکٹ اور اس سے منسلک کسی بھی طرح کی سرگرمی میں اس وقت تک حصہ نہیں لے سکتے جب تک کہ مقدمہ ختم نہیں ہوتا۔
کھلاڑیوں کے پاس اس عارضی معطلی کے خلاف اپیل کرنے کا حق موجود ہے۔ وہ اپنا دفاع آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کے آرٹیکل پانچ کے تحت اینٹی کرپشن ٹرائیبونل کے سامنے مکمل سماعت کے دوران کر سکتے ہیں۔
اس کے لیے ان کے پاس چودہ دن کا وقت ہے۔
اگر کوئی کھلاڑی جرم کا مرتکب پایا گیا تو آرٹیکل چھ کے تحت اس پر پابندی لگ سکتی ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ آزاد ٹرائیبونل پابندی کے علاوہ جرمانے کی بھی سزا سنائے۔
آئی سی سی کے چیف اگزیکیوٹیو ہارون لورگاٹ نے کہا ہے کہ ’یہ بالکل واضح ہے کہ ہم کرکٹ میں کرپشن برداشت نہیں کریں گے۔ ہمیں اس طرح کے معاملات کے متعلق فیصلہ کرنا ہے اور اگر یہ ثابت ہوتے ہیں تو ان جرائم کی سخت سزا ہے جو کہ (کرکٹ کھیلنے پر) تمام عمر پابندی ہو سکتی ہے۔‘

No comments:

Post a Comment