بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ودربھ کے کسانوں نے فلمساز اور اداکار عامر خان کی فلم ’پیپلی لائیو‘ پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔اتوار کے روز کسانوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے ودربھ جن آندولن سمیتی کے صدر کشور تیواری کی سربراہی میں ایوت مال سے ستر کلومیٹر دور پنڈھرپوڑ گاؤں میں کسانوں نے احتجاج کیا اور عامر خان کے پُتلے جلائے۔
فلمساز عامر خان کی فلم کی ہدایت اور کہانی انوشا رضوی نے لکھی ہے۔ فلم اس جمعہ کو نمائش کے لیے پیش کی گئی ہے۔
مہاراشٹر کے کسانوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ فلم میں کسانوں کی شبیہہ کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ صدر کشور تیواری نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ فلم کا مرکزی خیال ہی غلط ہے۔ فلم میں نتھا کا کردار ادا کرنے والے کسان کو بتایا گیا ہے کہ وہ محض حکومت سے معاوضہ لینے کے لیے قرض لے رہا ہے۔ تیواری کا کہنا تھا کہ اس سے ملک اور عالمی سطح پر ایک غلط پیغام جائے گا کہ یہاں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ پیسہ حاصل کرنے کی لالچ میں خودکشی کر رہے ہیں۔
فلم کی کہانی نتھا کی خودکشی، میڈیا کا ایک سٹوری کے لیے پاگل پن، سیاسی جماعتوں اور سرکار کی کھوکھلی سیاست کے ارد گرد گھومتی ہے۔
نتھا کا خودکشی کرنے کا فیصلہ یہ پیغام دیتا ہے کہ ہندوستان میں اگر آپ کسان ہیں تو آپ کی زندگی سے زيادہ آپ کی موت زیادہ قیمتی ہے، حکومت تبھی کسانوں کو کچھ دے گی جو وہ اپنی جان دیں۔
انوشا رضوی نے کسانوں کی خودکشی کے مسئلے کو مزاحیہ انداز میں جس طرح سے بتایا ہے وہ آپکو ’اینٹرٹین‘ تو کرتا ہے لیکن بار بار یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں غریب کسان کی زندگی کی کوئی قمیت نہیں ہے، ہر دن ہمارے ملک میں کسان قرض کے بوجھ میں دب کر خودکشی کررہے ہیں اور کسی کو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور جب جب ہندوستان کی ترقی کی بات ہوتی ہے شاید نتھا جیسے ہزاروں کسانوں کو بھول جانا ہی بہتر ہوتا ہوگا۔
انوشا رضوی کہتی ہیں ’فلم کی کہانی اس ہندوستان کی ہے جس کی بات کم ہوتی ہے۔‘
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سے میڈیا اور سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے مفاد کے لیے نتھا کی خودکشی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ٹی وی کو چاہیے ’ٹی آر پی‘ اور سیاسی پارٹیوں کو نتھا کو بچا کر اور اسکی مدد کرکے ووٹ۔
انوشا رضوی کہتی ہیں ’فلم کی کہانی اس ہندوستان کی ہے جس کی بات کم ہوتی ہے۔‘
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سے میڈیا اور سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے مفاد کے لیے نتھا کی خودکشی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ٹی وی کو چاہیے ’ٹی آر پی‘ اور سیاسی پارٹیوں کو نتھا کو بچا کر اور اسکی مدد کرکے ووٹ۔
No comments:
Post a Comment