
اکتیس جولائی ہندوستان کے مایہ ناز گلوکار محمد رفیع کی تیسویں برسی ہے۔ ان کے انتقال کو تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ان کے ساتھ کام کرنے والے موسیقاروں، نغمہ نگاروں اور گلوکاروں کے دلوں میں ان یادوں کے نقوش دھندلے نہیں ہوئے ہیں۔ محمد رفیع کو یاد کرنے والوں نے جہاں ان کی خداداد فنکارانہ صلاحیتوں کا ذکر کیا وہیں تقریباً ہر کسی نے انہیں فرشتہ صفت انسان بھی کہا۔ ان کی گائیکی کا سفر چار دہائیوں پر محیط تھا۔ اس دوران انہوں نے ہندستان کی گیارہ زبانوں میں تقریباً اٹھائیس ہزار نغمے گائے۔ حکومت نے انہیں پدم شری کے اعزاز سے نوازا لیکن اس کے ساتھ ہیں انہیں پانچ قومی اور چھ فلم فیئر ایوارڈز بھی ملے۔ رفیع کے لیے مشہور تھا کہ انہوں نے کبھی معاوضہ کو اہمیت نہیں دی اکثر موسیقاروں اور فلمسازوں کے لیے بلا معاوضہ بھی گیت گائے۔ رفیع کی زندگی کے سفر میں ان کے ساتھ چلنے والوں میں مشہور موسیقار محمد ظہور خیام ہاشمی عرف خیام سرِ فہرست ہیں۔ خیام کہتے ہیں کہ رفیع جیسے فنکار اور انسان مرا نہیں کرتے۔ بہ حیثیت فنکار وہ اپنے نغموں کی وجہ سے اور بہ حیثیت انسان وہ اپنے حسن و خوبی، رحم دلی، انکساری، اپنی فیاضی اور فراخ دلی کی وجہ سے لوگوں کے ذہن اور دلوں میں زندہ ہیں۔
خیام ان دنوں کو یاد کرتےہوئے کہتے ہیں کہ ’رفیع نے ان کی بنائی ہوئی دُھن میں پہلا نغمہ ’ اکیلے میں وہ گھبراتے تو ہوں گے‘ گایا تھا۔ ولی دکنی کا کلام تھا۔ دھن سادہ سی تھی سارا کمال رفیع کی گائیکی کا تھا۔ اور یہ گیت پورے ہندستان کو پسند آیا جس کے بعد مجھے بھی شہرت ملی‘۔ خیام کہتے ہیں کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ان کی دھنوں کو رفیع جیسے گلوکار نے آواز دی۔ وہ کہتے ہیں کہ اتنی بلندیوں پر پہنچنے کے بعد بھی رفیع ہمہ وقت کچھ نہ کچھ سیکھنا ہی چاہتے تھے۔ خیام ان دنوں کو یاد کر کے کہتے ہیں کہ ایک روز رفیع کے بھائی حمید ان کے پاس آئے اور کہا کہ رفیع چاہتے ہیں کہ آپ ان کے لیے ایسی دھن تیار کریں جس میں ان کی آواز کو ایک نئے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
خیام نے اس کے بعد داغ دہلوی کی چند غزلوں کا انتخاب کیا۔ ’رفیع نے میرے ساتھ اٹھارہ دنوں تک ریہرسل کی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ انہوں نے میری موسیقی میں جو غزلیں گائیں وہ یادگار بن گئی ہیں‘۔ ’غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا، تمام عمر قیامت کا انتظار کیا‘۔ خیام کا دعویٰ ہے کہ اس انداز میں رفیع کی غزل گائیکی کو بعد نہ صرف ہندوستان کے غزل گائیکوں نے اپنایا بلکہ بلکہ دوسرے ملک کے غزل سنگرز نے بھی اپنایا۔
No comments:
Post a Comment