Saturday, October 23, 2010

مغربی مارکیٹ کے لیے پہلا ’سنگل‘


’بی مائی بے بی‘ انگریزی میں پہلا سنگل ویڈیو گانا ہے جو میں نے خصوصی طور پر مغربی مارکیٹ کے لیے بنایا ہے، یہ بات پاکستانی نژادگلوکارہ اینی خالد نے اس گانے کو مارکیٹ میں لانے کی تقریب میں بتائی۔

یہ وڈیو برطانیہ کے مشہور ’ڈی جے‘ جج جیولز کے ساتھ مل کر بنایا گیا ہے۔

جواں سال گلوکارہ اینی خالد لندن میں پلی بڑھی ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ پانچ برس قبل منظر عام پر آئیں جب ان کا ایک گانا ’ تو ہی میرا پیار ماہیا‘ سامنے آیا۔

’پیار ماہیا‘ گیت پنجاب کے ایک فوک گیت کی دھن پر بنایا گیا تھا اور اردو اور انگریزی زبانوں میں گایا گیا۔ اس گانے نے اینی خالد کو پاکستان میں نہ صرف متعارف کروایا بلکہ انہیں خوب شہرت بھی ملی۔

گانا اس قدر مقبول ہوا کہ عمران ہاشمی کی فلم ’آوارہ پن‘ میں اس گانے کو لے لیا گیا۔

تاہم یہ گانا لندن کے موسیقی کے حلقوں یا دھارے میں نہیں آسکا۔ اینی کہتی ہیں اُس وقت ان کا یہ مطمع نظر بھی نہیں تھا۔

اس سوال پر کہ انہیں انگریزی میں گانے کا خیال کیوں آیا اینی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی ساکھ اور شہرت بری طرح مسخ ہوچکی ہے، پاکستان کو بیرونی دنیا میں محض ایک شدت پسند اور خود کش بمبار حملوں کے تناظر میں ہی دیکھا جا رہا ہے۔

میں بر صغیر کے سرکردہ کلاسیکی گلوکار استاد فتح علی خان کے صاحبزادے رستم علی خان سے کلایسکی موسیقی کی تربیت بھی حاصل کر رہی ہوں، مگر فی الحال میں پوپ موسیقی پر پورا دھیان دینا چاہتی ہیں البتہ آئندہ دس برس میں ذہن میں ایسا کرنے کا خیال ضرور موجود ہے۔

اینی خالد

’ایک پاکستانی کی حثیت سے میں اس صورتحال سے دکھی ہوتی تھی، میں نے سوچا کہ پاکستان ایک صلاحیتوں سے بھر پور ملک ہے۔ میرے پاس بھی یہ صلاحیت موجود ہے کہ اپنے فن کے ذریعے اپنے ملک کا تشخصں بہتر کر سکوں۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ اسلامی ثقافت، خصوصاً پاکستان کے معاشرے میں فنون لطیفہ میں آنے والی لڑکیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، اینی کا جواب تھا ’میں بخوبی سمجھتی ہوں کہ ہمارے معاشرے کے اکثر حلقوں میں لڑکیوں کا گانا ’سوشل سٹگما‘ یعنی سماجی داغ سمجھا جاتا ہے، مگر میرے والدین نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی، مجھے یقین ہے کہ اگر تعلیم یافتہ اور متوسط گھرانوں کے بچے اس فن میں آنے لگیں گے تو لوگوں کا یہ تصور ضرور بدل جائیگا‘۔

اینی کے والد خالد سلیم ماہر نفسیات ہیں اور والدہ پڑھی لکھی خاتون ہیں اور بہت برسوں سے لندن میں مقیم ہیں۔

اینی بر صغیر کے سرکردہ کلاسیکی گلوکار استاد فتح علی خان کے صاحبزادے رستم علی خان سے کلایسکی موسیقی کی تربیت بھی حاصل کر رہی ہیں۔ مگر اس مرحلے پر کلا سیکی یا نیم کلاسیکی گائیکی یا غزل گانے کا کوئی ارداہ نہیں رکھتیں۔

والدین نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی: اینی خالد

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال وہ پوپ موسیقی پر پورا دھیان دینا چاہتی ہیں البتہ انھوں نے کہا کہ آئندہ دس برس میں ان کے ذہن میں ایسا کرنے کا خیال ضرور موجود ہے۔ اینی بہت با اعتماد ہیں اور مستقبل کے بارے میں پر امید بھی۔

پریس کانفرنس میں اینی نے اپنے گانے کی ویڈیو بھی دکھائی۔ برطانیہ میں موسیقی کی بہت بڑی صنعت ہے جہاں بہت زیادہ مسابقت پائی جاتی ہے۔ اینی کا انگریزی گانا ایک معمول کا گانا ہے، اینی کو اگر مستقبل میں مغربی مارکیٹ میں اپنے فن کے لیے مستقل کوئی جگہ بنانی ہے تو محض اس وجہ سے شائد نہ بنا پائیں کہ ان کا تعلق پاکستان سے ہے، انہیں اپنے گانے میں کچھ نئے اور اپنی ثقافت کے مخصوص رنگ متعارف کروانے ہوں گے۔ جو ان کے موجودہ گانے میں نظر نہیں آئے۔

میرے ایک روایتی سوال کے جواب میں تئیس سالہ اینی نے ہنس کر کہا ’والدین کہتے تو ہیں مگر شادی میرے ایجنڈے میں نہیں، فی الحال میری شادی میوزک سے ہو چکی ہے‘۔

No comments:

Post a Comment